اسرائیل کی منافقت برقرار، صیہونی فوج نے امدادی سامان غزہ آنے سے روک دیا

اسرائیل کی منافقت برقرار، صیہونی فوج نے امدادی سامان غزہ آنے سے روک دیا
حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس جلد چار اسرائیلیوں کی لاشیں صیہونی حکام کے حوالے کرے گا جب کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد میں رکاوٹیں ڈالنے میں مصروف ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک لاکھ سے زائد موبائل گھروں، پانچ سو بلڈوزر اور امدادی سامان غزہ میں آنے سے روک دیا ہے۔
جنگ بندی معاہدے میں توسیع یا اس پر مکمل عمل درآمد کرنے کے اعلان کے باوجود صیہونی فوج کی جانب سے امدادی سامان کو غزہ میں داخلے سے روکنا مناقفت کیا اعلیٰ مثال قائم کرتا ہے۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ 19 جنوری کو نافذ العمل ہوا تھا۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں غزہ میں قید 33 یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ اس کے مقابل اسرائیلی جیلوں سے 1900 فسلطینی اسیروں کو آزاد کیا جائے گا۔
اسی طرح توقع ہے کہ دوسرے مرحلے میں جس کا آغاز 2 مارچ کو ہونا ہے، تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا اور جنگ کا خاتمہ عمل میں آئے گا۔
جہاں تک تیسرے مرحلے کا تعلق ہے تو یہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے مختص ہے۔ یہ ایک بڑا منصوبہ ہے اور اقوام متحدہ نے اس کی لاگت کا اندازہ 53 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 61 ہزار 709 شمار کی جارہی ہے، ملبے میں دبے ہزاروں افراد کو بھی شہید تصور کیا گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












