ایران کا مستقل کامیاب سفارتی ڈھانچہ اور امریکہ کی تبدیل ہوتی ناکام پالیسیاں

ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی مذاکرات کی مسلسل ناکامی کے پیچھے دونوں ممالک کے ریاستی ڈھانچے اور پالیسیوں کا تسلسل ایک اہم عنصر بن کر ابھرا ہے۔ جہاں ایران میں حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود تجربہ کار سفارت کار اپنا کام جاری رکھتے ہیں، وہیں امریکہ میں ہر نئی انتظامیہ کے ساتھ پالیسیاں اور چہرے یکسر بدل جاتے ہیں۔
ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہاں حکومتوں کی تبدیلی سے سفارت کار تبدیل نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے تہران کی خارجہ پالیسی میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے۔
اس کی واضح مثال موجودہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہیں، جو احمدی نژاد، حسن روحانی اور ابراہیم رئیسی کے ادوار میں بھی سینئر مذاکرات کار اور نائب وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب وہ مسعود پزشکیان کی حکومت میں وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں۔
جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کے دوران شامل رہنے والے تقریباً تمام ایرانی سفارت کار آج بھی تمام اہم مذاکرات کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکومتیں اپنی سابقہ حکومتوں، یہاں تک کہ شاہ کے دور میں کئے گئے عالمی وعدوں کی بھی پاسداری کرتی نظر آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ پر 28 ارب ڈالر ضائع، لاکھوں لوگوں کو گھر اور بچوں کا مستقبل سنبھل سکتا تھا، امریکی ٹی وی
اس کے برعکس امریکی حکومت کا طرز عمل بالکل مختلف ہے۔ اوباما انتظامیہ کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے ٹرمپ انتظامیہ نے صرف اس لیے علیحدگی اختیار کر لی کیونکہ اس پر ٹرمپ نے دستخط نہیں کئے تھے۔
امریکہ میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے منجھے ہوئے سفارت کاروں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور اچانک وٹکوف اور کوشنر جیسے افراد منظر عام پر آ جاتے ہیں، جن کا پیشہ ورانہ سفارتکاری سے وہ تعلق نہیں ہوتا جو مستقل عہدیداروں کا ہوتا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے دلچسپ اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں اپنے ہی وزیر خارجہ کو شرکت کی اجازت نہیں دی۔
دونوں ممالک کے طرزِ حکمرانی اور سفارتی نظام میں یہ بنیادی فرق ہی وہ اصل وجہ ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔
جب تک امریکہ اپنے سفارتی وعدوں میں تسلسل اور پیشہ ورانہ افراد پر اعتماد نہیں کرے گا، ایران کے ساتھ کسی پائیدار معاہدے کا حصول مشکل رہے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












