امریکی فوج کے جنوبی ایران میں قشم اور سیریک پر شدید فضائی حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جنوبی ایران کے علاقوں قشم اور سیریک میں ایرانی فوجی تنصیبات پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام نے جنوبی ایران میں ایرانی فوجی بنیادی ڈھانچے پر اضافی حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایک تیل کے ٹینکر پر ایرانی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔
سینٹ کام کے مطابق ان حملوں میں فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورک، فضائی دفاعی مقامات، ڈرون ذخیرہ کرنے کی جگہوں اور سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنانی صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ سے جنوبی لبنان سے انخلا کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
ایرانی سرکاری میڈیا نے صوبہ ہرمزگان میں کئی دھماکوں کی تصدیق کی ہے، جن میں سیریک کے گاؤں طاہروئی کے قریب ایک مواصلاتی ٹاور پر میزائل لگنے کا واقعہ بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ قشم کے گاؤں مسن، بندر لنگہ اور بندر کانگ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہرمزگان صوبے کے شہر بندر لنگہ پر 4 میزائل گرے۔
یہ حملے امریکی لڑاکا طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب مختلف مقامات پر کیے۔ اقوام متحدہ نے 23 جون کو آبنائے ہرمز سے پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے 2 نئے راستوں کا اعلان کیا تھا، جسے ایران نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد 25 جون کو تائیوان کا ایک جہاز ایور لولی اومان کے ساحل پر ڈرون حملے کا شکار ہوا تھا اور امریکہ نے 26 جون کو ایران پر پہلی بمباری کی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












