بدھ، 9-ستمبر،2026
بدھ 1448/03/27هـ (09-09-2026م)

آسٹریا کے اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پر پابندی نافذ

07 ستمبر, 2026 09:45

سوئزرلینڈ کی طرح یورپی ملک آسٹریا کے اسکولوں میں بھی 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی کا قانون نافذ العمل ہو گیا ہے۔

آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی کا متنازع قانون مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔

یہ قانون ملک بھر کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں مسلم خواتین کے روایتی سر ڈھانپنے یعنی حجاب اور برقعے پر لاگو ہوگا۔ حکومت میں شامل جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد صنفی مساوات اور کمسن لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

حکومتی وزیر برائے انٹیگریشن کلاؤڈیا باؤئر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حجاب کنٹرول کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ تاہم، ناقدین اور اسلامی تنظیموں کی جانب سے اس قانون کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں کارگو طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے سے باہر نکل کر گاڑیوں سے ٹکرا گیا، 5 افراد ہلاک

ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم مسلمان لڑکیوں کے خلاف تعصب کو ہوا دے گا اور یہ آئین سے تصادم رکھتا ہے۔ اس سے قبل 2020ء میں بھی پرائمری اسکولوں میں ایسی ہی پابندی کو آئینی عدالت نے مذہبی غیر جانبداری کے اصول کے خلاف قرار دے کر ختم کر دیا تھا۔

آسٹریا کی سرکاری اسلامی کمیونٹی نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متاثرہ لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کو عدالت میں کیس فائل کرنے کے لیے مکمل قانونی مدد فراہم کریں گے۔

نئے قانون کے تحت اساتذہ کو پابندی نافذ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں والدین پر 800 یورو تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ بعض سیاسی رہنماؤں اور اساتذہ نے اس قانون کو اساتذہ پر اضافی بوجھ اور معاشرتی تقسیم بڑھانے کا سبب قرار دیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔