ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

ایران پر حملے کے خطرناک نتائج ہوں گے : روس کی عالمی برادری کو وارننگ

19 فروری, 2026 09:19

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران پر کسی بھی نئے حملے کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا اقدام نہ صرف خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا بلکہ اس کے اثرات روس تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

سرگئی لاوروف نے ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ماضی میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات نے ایک ممکنہ جوہری حادثے کے حقیقی خطرات کو جنم دیا تھا، اس لیے کسی نئی فوجی کارروائی کے نتائج انتہائی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے نتائج منفی ہوں گے۔ ماضی میں ایران پر حملے ہو چکے ہیں اور ان حملوں کا ہدف وہ جوہری تنصیبات تھیں جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں تھیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران جوہری حادثے کا حقیقی خطرہ موجود تھا، جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس ایران کے خلاف انتہا پسندانہ یا سخت ترین اقدامات کی حمایت نہیں کرتا۔ ایسے اقدامات ایران کے بین الاقوامی قوانین کے تحت تسلیم شدہ حقوق کو مجروح کریں گے اور خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کریں گے۔ روس کا مؤقف ہے کہ مسائل کا حل فوجی دباؤ کے ذریعے نہیں بلکہ سفارتی اور قانونی دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اور روس کا بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ مشقوں کا اعلان

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے خلاف سخت اقدامات پر زور دیتے ہیں۔ روس کے نزدیک اس قسم کی حکمت عملی نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرے گی بلکہ بین الاقوامی ضوابط کو بھی نقصان پہنچائے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران سے یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی روح کے منافی ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ یہ سرگرمیاں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی سخت نگرانی میں ہوں۔ ایجنسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ افزودہ یورینیم کو فوجی مقاصد کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تہران کی افزودگی کی سرگرمیاں مسلسل ایجنسی کی نگرانی میں انجام پاتی رہی ہیں اور اب تک کسی فوجی انحراف کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ ایران کے قانونی حقوق کو نظر انداز کرنا مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس ایران کے جوہری معاملے پر تہران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ماسکو کو ایران کے اس اعلان کردہ ارادے پر کوئی شبہ نہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے مطابق مسئلے کا حل چاہتا ہے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران ملک میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معمول کے کام کی بحالی کے بعد معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

روس پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کے گرد کشیدگی میں اضافہ دور رس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ سرگئی لاوروف نے دہرایا کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے سے نہ صرف خطہ متاثر ہوگا بلکہ روس کے مفادات بھی زد میں آئیں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مختلف سفارتی راستوں پر بات چیت جاری ہے اور مسئلے کے پرامن حل کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔