صدر ٹرمپ نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا، بھارت پر یکطرفہ معاشی دباؤ واضح

صدر ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا، بھارت پر یکطرفہ معاشی دباؤ واضح
واشنگٹن/نیویارک: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کے دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس معاہدے میں فائدہ صرف امریکہ کو حاصل ہو رہا ہے اور بھارت ہی بھاری ٹیرف ادا کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ “کچھ بھی نہیں بدلا، بھارت ٹیرف دے رہا ہے، ہم نہیں دے رہے، یہ مکمل الٹ ہے۔” اس بیان کے بعد بھارت میں جشن منانے والے سرکاری حلقوں کے دعوے کمزور پڑ گئے۔
واضح رہے کہ 2 فروری 2026 کو صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نریندر مودی نے اس معاہدے کا اعلان کیا تھا، جسے تاریخی قرار دیا گیا۔ تاہم صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق بھارت کے لیے یہ زیادہ تر معاشی دباؤ کا معاملہ ثابت ہوا۔
ماہرین کے مطابق اس بیان نے بھارت کے سفارتی بیانیے کو چیلنج کیا ہے۔ اگر معاہدے کے بعد بھی بھارت مالی بوجھ اٹھا رہا ہے تو اس کامیابی کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے مئی 2025 میں خبردار کیا تھا کہ آئی فونز امریکا میں تیار ہوں گے ورنہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ جولائی 2025 میں بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لگایا گیا، اور اگست 2025 میں روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ تجارتی منصوبہ شراکت داری نہیں بلکہ معاشی دباؤ پر مبنی سفارتکاری ہے۔
یہ صورتحال بھارت کی عالمی تجارتی حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ معاہدے کے دعوے اور زمینی حقائق میں فرق موجود ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









