کیا ترکیہ اسرائیل کے لیے ایران سے بڑا چیلنج بن گیا؟

فروری 2026 کے بدلتے تزویراتی ماحول میں ترکیہ کے بڑھتے کردار نے اسرائیلی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے بیان نے اس بحث کو مزید ہوا دی کہ ترکیہ اب ایران کی جگہ اسرائیل کے لیے بڑا تزویراتی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ترکیہ کی طاقت صرف عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ اس کی معاشی حیثیت اور عالمی اتحادوں میں شمولیت اسے ایک منفرد مقام دیتی ہے۔
بین الاقوامی امور کی ماہر ملیحہ التونشک کا کہنا ہے کہ ترکیہ نظریے اور عملیت پسندی کو یکجا کر کے ایک ایسا کردار ادا کر رہا ہے جو اسے غیر متوقع بھی بناتا ہے اور مؤثر بھی۔
یہ بھی پڑھیں : مسلم ممالک کے ردعمل کے بعد اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر اپنے بیان سے مکر گئے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور قطر کے درمیان بڑھتا تعاون ایک نئے سنی محور کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس سے اسرائیل کی تزویراتی منصوبہ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق ترکیہ کی عالمی ساکھ اور نیٹو جیسے اتحادوں میں موجودگی اسے ایران سے مختلف اور بعض حوالوں سے زیادہ مؤثر حریف بناتی ہے۔
عثمانی دور کی تاریخی وراثت اور فلسطین سے جڑے بیانیے نے بھی ترکی کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کے لیے اصل تشویش عسکری تصادم سے زیادہ سفارتی اور اخلاقی دباؤ ہے جو ترکی عالمی سطح پر بڑھا سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








