دنیا بھر میں انسانی حقوق شدید حملوں کی زد میں ہیں : اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پوری دنیا میں انسانی حقوق شدید حملوں کی زد میں ہیں۔
انتونیو گوتیرس نے بین الاقوامی قوانین کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں اور سوڈان، غزہ اور یوکرین جیسے تنازعات میں شہریوں کی ہولناک تکالیف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج قانون کی حکمرانی طاقت کے زور کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے اور جنگی علاقوں میں عام انسانوں کے بنیادی حقوق کو بری طرح کچلا جا رہا ہے۔
انتونیو گوتیرس نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کو کسی ایسی فہرست کی طرح نہ دیکھیں، جس میں سے صرف اپنی پسند کے حقوق کا انتخاب کیا جائے بلکہ ان تمام حقوق کی یکساں پاسداری کی جانی چاہیے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ مالیاتی فنڈز میں کٹوتی، ماہرین پر حملے اور بعض بڑے ممالک کی جانب سے جوابدہی کے طریقہ کار سے پیچھے ہٹنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف انسانی ضروریات آسمان کو چھو رہی ہیں تو دوسری طرف ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کی فراہمی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔
سیکرٹری جنرل کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفاتر اور دیگر شعبے بجٹ کے شدید بحران کا شکار ہیں کیونکہ امریکا جیسے بڑے ڈونر ممالک اور دیگر حکومتوں نے فنڈز میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق امریکا نے فروری میں چار ارب ڈالر سے زائد کے واجب الادا بقایاجات میں سے صرف ایک سو ساٹھ ملین ڈالر ادا کیے ہیں، جس کی وجہ سے ادارے کے لیے اپنے انسانی مشن کو جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انتونیو گوتیرس نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر انسانی حقوق کی پامالیوں کو نہ روکا گیا اور مالی معاونت بحال نہ ہوئی تو دنیا میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








