اتوار، 1-مارچ،2026
اتوار 1447/09/12هـ (01-03-2026م)

شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا مشہد سے سپریم لیڈر تک کا سفر

01 مارچ, 2026 08:49

مشہد کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے شہید سید علی خامنہ ای نے کم عمری سے دینی تعلیم حاصل کی، انقلاب ایران میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں صدر اور پھر سپریم لیڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔

شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپریل انیس سو انتالیس میں ایران کے شہر مشہد کے ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید جواد خامنہ ای اور دادا سید حسین خامنہ ای اپنے زمانے کے جید علما میں شمار ہوتے تھے۔ گھر کے علمی ماحول نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا اور بچپن ہی سے دینی علوم کی طرف ان کا رجحان نمایاں تھا۔

انہوں نے صرف چار سال کی عمر میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور ابتدائی تعلیم مشہد مقدس میں ہی مکمل کی۔ کم عمری سے ہی درس و تدریس اور علمی مجالس میں شرکت ان کا معمول بن گیا تھا۔

انیس سو ستاون میں وہ اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے نجف چلے گئے، جو اس وقت شیعہ علمی دنیا کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ تاہم والد کی خرابی صحت کے باعث جلد ہی واپس مشہد آنا پڑا۔

بعد ازاں انہوں نے قم میں سکونت اختیار کی اور حوزہ علمیہ میں ممتاز علما کی شاگردی اختیار کی۔ اس دوران انہوں نے آیت اللہ سید حسین بروجردی اور آیت اللہ سید روح اللہ خمینی جیسے جید اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ یہی دور ان کی فکری اور سیاسی تربیت کا اہم مرحلہ ثابت ہوا۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایرانی انقلاب کی سرگرم شخصیات میں شامل رہے اور آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور نواسہ بھی شہید

اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے بعد انہوں نے مختلف اہم سرکاری عہدوں پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ پارلیمنٹ کے دفاعی کمیشن کے نمائندے رہے، اسلامی انقلابی گارڈ کے نگران مقرر ہوئے اور قومی دفاع کے نائب وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

آیت اللہ حسین علی منتظری کے استعفے کے بعد آیت اللہ خمینی نے آیت اللہ خامنہ ای کو تہران کا امام جمعہ نامزد کیا، جو اس وقت ایک نہایت اہم مذہبی اور سیاسی منصب سمجھا جاتا تھا۔ اس ذمہ داری نے ان کے قومی کردار کو مزید وسعت دی اور وہ ملکی سیاست میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کر گئے۔

ستائیس جون انیس سو اکیاسی کو انہیں انقلاب مخالف تنظیم مجاہدین خلق کی جانب سے ایک قاتلانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ٹیپ ریکارڈر میں نصب بم ان کے قریب پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں ان کا دایاں بازو شدید زخمی ہو گیا، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ یہ واقعہ ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم اور خطرناک موڑ تھا۔

اسی برس ایرانی صدر محمد علی رجائی کے قتل کے بعد ملک میں صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔ اکتوبر انیس سو اکیاسی کے انتخابات میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای ستانوے فیصد اکثریت کے ساتھ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے نو اکتوبر انیس سو اکیاسی سے سولہ اگست انیس سو نواسی تک صدارت کا منصب سنبھالے رکھا۔

چار جون انیس سو نواسی کو ایرانی انقلاب کے بانی رہنما آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔

اس منصب پر فائز ہونے کے بعد وہ ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی اتھارٹی بن گئے اور ملک کی داخلی و خارجی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی علم، سیاست، جدوجہد اور قیادت کا مجموعہ ہے۔ وہ ایک ایسے دور میں ابھرے جب ایران داخلی اور خارجی چیلنجز سے دوچار تھا، اور انہوں نے مختلف ادوار میں مختلف ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ملکی نظام میں اہم کردار ادا کیا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔