ہفتہ، 18-اپریل،2026
ہفتہ 1447/11/01هـ (18-04-2026م)

کویت کی شہریت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خبر آگئی

18 اپریل, 2026 10:07

خلیجی ملک کویت نے شہریت سے متعلق اپنے قوانین میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں، جن کا مقصد نظام کو مزید واضح اور سخت بنانا بتایا جا رہا ہے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نئی ترامیم کے تحت شہریت کے حصول اور اس کے خاتمے سے متعلق کئی پہلوؤں کو ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے مطابق وہ افراد جو 1920 سے پہلے کویت میں مقیم تھے اور 1959 تک وہاں رہائش پذیر رہے، انہیں کویتی الاصل تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی بچے کا باپ کویتی شہری ہے تو بچہ دنیا کے کسی بھی حصے میں پیدا ہو، اسے کویتی شہریت حاصل ہوگی۔

 تاہم شادی کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کے قوانین میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب کسی غیر ملکی خاتون کو صرف کویتی شہری سے شادی کی بنیاد پر خودکار شہریت نہیں ملے گی۔

کویتی ماں کے بچوں کے لیے بھی مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں۔ اگر بچے کا باپ وفات پا جائے، طلاق ہو جائے یا وہ قید میں ہو تو ایسی صورت میں بچے کو عارضی بنیادوں پر شہریت دی جا سکتی ہے۔

 خواتین کے حوالے سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کویتی خاتون کسی غیر ملکی سے شادی کرے تو اس کی اپنی شہریت برقرار رہے گی، تاہم کچھ خاص حالات میں اسے منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اگر شادی ختم ہو جائے اور بچے موجود نہ ہوں۔

نئی پالیسی کے تحت دوہری شہریت پر بھی سختی کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص کویتی شہریت حاصل کرتا ہے تو اسے تین ماہ کے اندر اپنی سابقہ غیر ملکی شہریت ترک کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر کوئی فرد دھوکہ دہی میں ملوث پایا جائے، ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے یا کسی غیر ملکی فوج میں شامل ہو جائے تو اس کی شہریت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ شہریت سے متعلق تنازعات میں ڈی این اے ٹیسٹ اور بائیومیٹرک تصدیق کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ شہریت دینے یا واپس لینے کے فیصلے میں حکومتی اختیار کو حتمی حیثیت حاصل ہوگی اور عدالتیں اس میں مداخلت نہیں کر سکیں گی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔