اسرائیلی خفیہ اداروں کو شہید علی خامنہ ای تک رسائی کیسے ملی؟

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں خامنہ ای کی موجودگی کے عین مقام کی سو فیصد درست معلومات حاصل ہوئیں، جس کے بعد دن میں ہی ان پر شدت سے حملہ کیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی پہلے سے موجود کشیدہ صورتحال اس وقت ایک انتہائی بھیانک اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی، جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کئی گھنٹوں کی مسلسل تردید کے بعد بالآخر اتوار کی صبح صادق میں اس خبر کی تصدیق کر دی کہ ان کے سب سے بڑے رہنما علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔
اس تصدیق کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے اس عظیم جانی نقصان کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے، جس نے پوری دنیا میں ایک نئے عالمی تنازع کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
اس ہلاکت خیز واقعے کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ اس کے پیچھے اسرائیلی اور امریکی خفیہ اداروں کی طویل مدت سے جاری کڑی نگرانی اور انتہائی باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی شامل تھی۔
اسرائیلی حکام نے اس آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بیک وقت ہونے والی تین اہم ملاقاتوں کی نشاندہی کی تھی، جس کے ذریعے انہیں خامنہ ای کی موجودگی کے عین مقام کی سو فیصد درست معلومات حاصل ہوئیں۔
اس موقع کو اتنا نایاب اور اہم قرار دیا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں نے رات کے اندھیرے کا انتظار کرنے کے بجائے دن کی روشنی میں حملہ کرنے کا پر خطر فیصلہ کیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے خامنہ ای کے رہائشی اور دفتری کمپلیکس پر لگاتار تیس بم گرائے جس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ پوری عمارت مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی اور وہاں موجود کسی بھی شخص کے بچنے کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور اسرائیل کو سپریم لیڈر کی شہادت کی قیمت چکانا ہوگی : ایرانی اسپیکر
اسرائیلی اور امریکی فوجی خفیہ اداروں نے ایک طویل عرصے سے ایران کے اعلیٰ سیاسی اور عسکری رہنماؤں کے معمولات پر نظر رکھی ہوئی تھی اور وہ اسی ایک نادر موقع کی تلاش میں تھے، جب ایران کے تمام بااثر ستون ایک ہی جگہ جمع ہوں تاکہ انہیں ایک ہی وار میں ختم کیا جا سکے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ جس دن کا برسوں سے انتظار کر رہے تھے وہ بالآخر ہفتے کی صبح آن پہنچا تھا۔ اس تباہ کن حملے میں صرف علی خامنہ ای ہی نشانہ نہیں بنے بلکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے دیگر کئی اہم رہنماؤں کو بھی ہلاک کر دیا ہے جن میں خامنہ ای کے سینئر سکیورٹی مشیر علی شمخانی، پاسدارانِ انقلاب کے اہم کمانڈر محمد باکپور اور ایران کے وزیرِ دفاع امیر ناصر زادہ شامل ہیں، جس کی تصدیق ایرانی حکام نے بھی کی۔
اس پورے آپریشن کی تیاری کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مہم کے آغاز سے پہلے اسرائیلی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈروں کی امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں آمد و رفت بہت زیادہ بڑھ گئی تھی تاکہ حملے کے ہر پہلو کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ان ملاقاتوں میں اسرائیل کی فضائیہ کے سربراہ، فوجی خفیہ ادارے کے اعلیٰ افسران اور موساد کے ڈائریکٹر خود شامل تھے جنہوں نے امریکی حکام کے ساتھ مل کر اس پیچیدہ حملے کا نقشہ تیار کیا۔
اس وقت پوری دنیا کی نظریں ایران کے اگلے قدم پر لگی ہوئی ہیں جبکہ خطے میں صورتحال کسی بھی وقت ایک بڑی تباہی کی طرف مڑ سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










