ایران جنگ چار سے پانچ ہفتے جاری رہ سکتی ہے : امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ابتدائی اندازوں کے مطابق چار سے پانچ ہفتے جاری رہ سکتی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر یہ زیادہ طویل بھی ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا ابتدائی تخمینہ چار سے پانچ ہفتوں کا تھا، لیکن امریکی فوج کے پاس اس سے کہیں زیادہ طویل کارروائی کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام تیزی سے پھیل رہا تھا اور یہ امریکا اور بیرون ملک تعینات امریکی افواج کے لیے سنگین خطرہ بن چکا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود تھے جو یورپ اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے تھے اور مستقبل میں امریکا تک بھی پہنچ سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو تباہ کرنا چاہتا ہے : مارکو روبیو
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس امریکی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا تھا، تاہم ایران دوبارہ صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا اپنے طے شدہ شیڈول سے آگے ہے اور کئی اعلیٰ عہدیدار مارے جا چکے ہیں۔
امریکی آئین کے تحت جنگ کے اعلان کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، تاہم صدر فوری خطرے کی صورت میں کارروائی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ مزید جانی نقصان کا خدشہ موجود ہے، لیکن ان کے بقول یہ اقدام امریکا کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












