بدھ، 15-اپریل،2026
بدھ 1447/10/27هـ (15-04-2026م)

صیہونی تحریک اور ہٹلر کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف، تاریخی دستاویزات منظر عام پر

15 اپریل, 2026 12:17

صیہونیت کی تاریخ کا ایک اور تاریک باب اس وقت منظر عام پر آیا ہے، جب انکشاف ہوا کہ صیہونی تحریک کے ایک اہم دھڑے لیحی نے فلسطین کو برطانوی قبضے سے چھڑانے کے لیے نازی جرمنی کے سربراہ ایڈولف ہٹلر سے اتحاد کی کوشش کی تھی۔

اسرائیلی اخبار ہاآرٹز نے حال ہی میں ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے حوالے سے صیہونیت کی تاریخ کا ایک انتہائی شرمناک پہلو بے نقاب کیا ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق صیہونی تحریک لیحی، جسے اسٹرن گینگ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، نے دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے ساتھ اتحاد کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

اس تحریک کے بانی ابراہام اسٹرن کا ماننا تھا کہ فلسطین سے برطانیہ کو نکالنے کے لیے ایڈولف ہٹلر سے بہتر کوئی اتحادی نہیں ہو سکتا۔

اس مقصد کے حصول کے لیے اسٹرن گینگ نے باقاعدہ طور پر جرمنی کو اپنے وفود بھیجے تاکہ وہ نازیوں کے ساتھ مل کر اسرائیلی ریاست کے قیام کے لیے بھرتی کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : سلیکون ویلی کا اسرائیل سے خفیہ معاہدہ، ٹیکنالوجی کمپنیاں فلسطینیوں کیخلاف جنگ میں شریک

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابراہام اسٹرن اکیلے ایسے صیہونی رہنما نہیں تھے، جو نازیوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔

کنیست کے مستقبل کے رکن ناتن فریڈمین نے بھی 1934 میں لکھا تھا کہ جرمنی ابھی ہارا نہیں ہے اور وہ اب بھی ہمارا اتحادی بن سکتا ہے۔

اسٹرن کا استدلال تھا کہ آزادی کی جنگ کے لیے جنگی حالات سے بہتر کوئی وقت نہیں ہوتا، اس لیے انہوں نے اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نازیوں سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی۔ اگرچہ نازیوں کے ساتھ ان کے رابطے کامیاب نہ ہو سکے، لیکن یہ کوششیں صیہونی قیادت کی سوچ کو ظاہر کرتی ہیں۔

ہالینڈ کے مشہور ماہر طبیعیات اور ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ہاجو میئر نے اس حوالے سے انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صیہونیوں نے ہی مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے ابراہام اسٹرن کو بدترین دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ شخص تھا، جو برطانوی فوج کے خلاف ہٹلر کے شانہ بشانہ لڑنے کا خواہشمند تھا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔