منگل، 21-اپریل،2026
منگل 1447/11/04هـ (21-04-2026م)

ٹرمپ نے وہی کیا جس سے منع کیا گیا، امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹس مذاکرات میں رکاوٹ قرار

21 اپریل, 2026 09:35

امریکی میڈیا کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے قریب پہنچنے والے مذاکرات صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے ایک خصوصی تجزیے میں انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ سات ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے قریب تھے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیانات نے تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ان شرائط کے تسلیم کیے جانے کا دعویٰ کر دیا، جو ابھی تک زیر بحث تھیں، جس سے مذاکراتی عمل شدید متاثر ہوا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی یورینیم کی تمام ذخیرہ شدہ مقدار حوالے کرنے پر تیار ہو گیا ہے، جسے ایرانی حکام نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی ایران کے بعد کیوبا پر نظریں، امریکہ کے جاسوس ڈرونز کی پروازوں میں اضافہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت، خاص طور پر پاسداران انقلاب، اس بات سے پریشان ہیں کہ انہیں اپنے ملک میں کمزور دکھایا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے حکام نے نجی طور پر تسلیم کیا ہے کہ صدر کی سوشل میڈیا ڈپلومیسی مذاکرات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

ایران کی جانب سے دس سالہ یورینیم افزودگی کی معطلی کی تجویز دی گئی تھی، جبکہ ٹرمپ اسے غیر معینہ مدت تک روکنے پر بضد ہیں۔ مزید برآں، بیس ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی بحالی کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔

تجزیے کے مطابق ٹرمپ کسی ایسی ڈیل کا حصہ نہیں بننا چاہتے، جسے اوباما دور کے معاہدے جیسا قرار دیا جا سکے، اسی لیے وہ زیادہ سخت شرائط پر اصرار کر رہے ہیں۔

جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ٹرمپ نے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے، جو کہ ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔