ملک بھر میں ایڈز کے 16 ہزار سے زائد مریض لاپتہ، قائمہ کمیٹی کا شدید تشویش کا اظہار

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں انسانی مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والے مرض ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، 16 ہزار رجسٹرڈ مریض لاپتہ ہیں جو معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اہم اجلاس چیئرمین مہش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک بھر خصوصاً اسلام آباد میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی نے وزارت صحت کے حکام سے وفاقی وزیر کی عدم موجودگی پر سوال کیا، جس پر بتایا گیا کہ وہ وزیراعظم کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں مصروف ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے ایڈز کے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اجلاس کو بند کمرہ کرنے کی تجویز دی تاہم کمیٹی کی اراکین عالیہ کامران اور شازیہ ثوبیہ نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عوامی اہمیت کا حامل سنگین ایشو ہے اور اس مرض کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، لہٰذا میڈیا کو اس کارروائی میں موجود ہونا چاہیے تاکہ عوام تک حقائق پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں ایڈز پھیلنے لگا، ریاست 11 خطرناک ترین ممالک میں شامل
نیشنل ایڈز پروگرام کے مینیجر نے اجلاس کو اعداد و شمار پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2020 میں ملک بھر کے 49 مراکز پر تقریباً 38 ہزار شہریوں کی اسکریننگ کی گئی تھی، جن میں سے 6 ہزار 910 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
سال 2025 تک ان مراکز کی تعداد بڑھا کر 97 کر دی گئی اور اسکریننگ کا دائرہ کار 3 لاکھ 74 ہزار سے زائد افراد تک پھیلا دیا گیا، جس کے نتیجے میں 14 ہزار 182 نئے کیسز سامنے آئے۔
وزارت صحت کے حکام نے دعویٰ کیا کہ کیسز کا گراف مستحکم ہے اور اضافے کی بڑی وجہ زیادہ سے زیادہ اسکریننگ ہے۔ اس وقت ملک بھر میں رجسٹرڈ کیسز کی مجموعی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار زیر علاج ہیں جبکہ باقی تاحال لاپتہ ہیں۔
کمیٹی اراکین نے وزارت صحت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بات یہاں تک پہنچی ہی کیوں؟ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کیسز کی بڑی تعداد سامنے آنا وزارت کی نااہلی کا ثبوت ہے۔
اراکین نے اس انکشاف پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ 16 ہزار سے زائد ایڈز کے مریض علاج کے دوران غائب ہو چکے ہیں، جو نہ صرف اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں، بلکہ معاشرے میں اس مہلک وائرس کے مزید پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بن رہے ہیں۔
ڈاکٹر شازیہ نے نشاندہی کی کہ دور دراز علاقوں میں آگاہی کی کمی ہے اور لوگوں کو علم ہی نہیں کہ یہ ایک قابل علاج مرض ہے، جس کی وجہ سے مریض سامنے آنے سے کتراتے ہیں۔
رواں سال کے ابتدائی چار ماہ میں کیسز میں ہونے والا اضافہ ایک بڑے بحران کی نشاندہی کر رہا ہے، جس پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











