ایران کی خودمختاری پر سوال یا دباؤ کی نئی حکمت عملی؟ مارکو روبیو کے دعوؤں پر شکوک بڑھ گئے

امریکی سینیٹر مارکو روبیو کے ایران سے متعلق حالیہ بیان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے، جس میں ایرانی معاشرے اور قیادت کے درمیان تعلق کو موضوع بنایا گیا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں عوام اور حکمرانوں کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے اور دنیا میں کم ہی ایسے ممالک ہیں جہاں یہ تضاد اتنا نمایاں ہو۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اس وقت شدت پسند مذہبی قیادت کے زیر اثر ہے جبکہ عوام کی اکثریت ایک بہتر اور متوازن زندگی کی خواہش رکھتی ہے۔
امریکی سینیٹر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایرانی عوام ایک جدید، مہذب اور دنیا سے جڑا ہوا معاشرہ چاہتے ہیں، جبکہ موجودہ حکومتی پالیسیاں ملک کو عالمی سطح پر تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک عظیم تاریخ اور ثقافتی ورثہ رکھنے والا ملک ہے لیکن موجودہ حالات نے اس کی عالمی حیثیت کو متاثر کیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی برادری ایران کی پالیسیوں سے متاثر ہو رہی ہے، تاہم سب سے زیادہ اثرات خود ایرانی عوام پر پڑ رہے ہیں، جو روزمرہ زندگی میں مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ امریکی قیادت ایرانی عوام کے حالات پر ہمدردی رکھتی ہے۔
دوسری جانب اس مؤقف پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آ رہی ہے، جہاں ایران کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی داخلی صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی، ثقافتی اور علاقائی تناظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











