بدھ، 6-مئی،2026
بدھ 1447/11/19هـ (06-05-2026م)

امریکی شیل آئل کا افسانہ اور آبنائے ہرمز کی حقیقت

06 مئی, 2026 14:08

گزشتہ بیس سالوں سے واشنگٹن کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ امریکی شیل آئل کسی بھی عالمی توانائی کے بحران کا مقابلہ کر سکتا ہے، لیکن ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے اس دعوے کو ایک سفید جھوٹ ثابت کر دیا ہے۔

امریکی توانائی کے شعبے میں ‘شیل انقلاب’ کا غبارہ ایران کی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث پھٹ چکا ہے۔ واشنگٹن نے برسوں یہ پروپیگنڈہ کیا کہ امریکہ شیل آئل کی بدولت توانائی میں خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کی ضرورت نہیں رہی، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی ہے۔

شیل آئل کے کنوؤں کی سب سے بڑی کمزوری ان کی تیزی سے ختم ہونے والی صلاحیت ہے۔ شیل کے کنویں پہلے ہی سال میں اپنی ساٹھ سے ستر فیصد پیداواری صلاحیت کھو دیتے ہیں کیونکہ چٹانوں سے نکلنے والا تیل دباؤ میں اچانک کمی کے باعث ختم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی خارجہ پالیسی اسرائیلی تھنک ٹینک چلا رہے ہیں، اسکاٹ رٹر کا دعویٰ

امریکہ کے بڑے بیسنز جیسے پرمین اور بیکین اب اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور ان سے مزید تیل نکالنا اب معاشی طور پر سود مند نہیں رہا۔

شیل آئل کی پیداواری لاگت ساٹھ سے پچھتر ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ ہے، جو اخراجات بڑھنے کے ساتھ مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ پانچ سے دس ملین بیرل تیل کی سپلائی رکنے کی صورت میں شیل آئل بمشکل دس لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کر سکتا ہے، وہ بھی پورے ایک سال کی محنت کے بعد۔

شیل کے نئے کنوؤں کی کھدائی اور فریکنگ میں مہینوں لگتے ہیں، جبکہ خلیج فارس کے کنویں پلک جھپکتے میں پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید برآں، امریکی شیل آئل ‘ہلکا’ ہوتا ہے جو ایشیا کی ان ریفائنریز کے لیے موزوں نہیں جو خلیج کے ‘بھاری’ خام تیل کے لیے بنائی گئی ہیں۔

پائپ لائنوں اور بندرگاہوں کی کمی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ نہ تو شیل آئل ہر مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی امریکہ اب عالمی توانائی کی منڈی کا کنٹرولر رہا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔