ایران پر جارحیت کے نتائج تباہ کن ہوں گے : ایرانی مستقل مشن

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات خطے میں فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
ایرانی مشن نے اپنے خط میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فوجی سازوسامان میں اضافہ اور سخت لہجہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ خطرے کا اشارہ ہے۔
روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کے مطابق اس خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیلیں گے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق موجودہ صورتحال کو معمولی سمجھنا درست نہیں کیونکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر کا ایران کو دس دن کا الٹی میٹم، معاہدہ یا کارروائی
خط میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کو کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل اکاون کے تحت اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کن اور متناسب جواب دے گا۔
تہران نے متنبہ کیا ہے کہ ایسی صورت میں خطے میں موجود تمام امریکی اڈے، تنصیبات اور عسکری اثاثے ایران کے دفاعی ردعمل کا ہدف بن سکتے ہیں۔
ایرانی مشن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے امریکہ کو طاقت کے غیر قانونی استعمال کی دھمکیوں سے روکے اور منشور کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی یقینی بنائے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر متوقع اور بے قابو نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بھی حالیہ خطاب میں کہا کہ جنگی بحری جہاز خطرناک ضرور ہیں، مگر ان سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہیں جو انہیں سمندر کی تہہ میں پہنچا سکتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










