امریکی صدر نے عالمی تجارتی محصولات میں پندرہ فیصد اضافہ کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر عائد کردہ محصولات کی شرح دس فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔
چند روز قبل ہی امریکی عدالتِ عظمیٰ نے صدر کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے وسیع تر ٹیکسوں کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔ اس قانونی دھچکے کے باوجود صدر ٹرمپ نے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے معاشی ایجنڈے کو مزید سخت کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
ٹرمپ کے اس اقدام کا مقصد دنیا بھر کی ان حکومتوں اور کاروباری اداروں کو جواب دینا ہے جو واشنگٹن سے ان ایک سو تینتیس ارب ڈالر کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو اب تک ان محصولات کی مد میں جمع کیے جا چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ نئے محصولات کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ انہوں نے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مضحکہ خیز اور امریکہ مخالف قرار دیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے چھ اور تین کے تناسب سے دیے گئے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ صدر کے پاس یکطرفہ طور پر محصولات مقرر کرنے یا تبدیل کرنے کا آئینی اختیار نہیں ہے، کیونکہ ٹیکس عائد کرنے کی اصل طاقت صرف امریکی کانگریس کے پاس ہے۔ عدالت نے ان محصولات کو کالعدم قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کے ساتھ مجوزہ بجلی ٹیرف میں ردوبدل پر بات چیت جاری ہے: آئی ایم ایف
اس فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ججوں کو سست کہتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی اور فوری طور پر ایک نئے انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے جو انیس سو چوہتر کے تجارتی قانون کی دفعہ ایک سو بائیس پر مبنی ہے۔
پندرہ فیصد کا یہ نیا اضافہ، اس مخصوص قانون کے تحت اجازت دی گئی بلند ترین شرح ہے۔ تاہم اس قانون کے تحت لگائے گئے محصولات کی مدت صرف ایک سو پچاس دن ہوتی ہے، جس کے بعد ان میں توسیع کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے۔
امریکی تاریخ میں اس سے قبل کسی صدر نے اس قانون کا سہارا نہیں لیا، جس کی وجہ سے ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام کو بھی مستقبل میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ان نئے محصولات سے بعض اہم معدنیات، دھاتوں اور توانائی کی مصنوعات کو استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ آنے والے مہینوں میں مزید قانونی محصولات جاری کرنے پر کام کرتی رہے گی تاکہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا عمل جاری رکھا جا سکے۔
ٹرمپ کے معاشی ایجنڈے میں محصولات کو ایک مرکزی ہتھیار کی حیثیت حاصل ہے، جسے وہ ملکی صنعت کی بحالی اور دیگر ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد درآمد کنندگان کی جانب سے اب تک ایک ہزار سے زائد مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جن میں جمع شدہ رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیوں کے لیے رقم کی واپسی کا عمل شاید آسان ہو، لیکن چھوٹی کمپنیوں کو اس طویل قانونی عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












