ایران کی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے جوہری پروگرام میں لچک دکھانے کی پیشکش

ایرانی حکام نے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے گیند امریکہ کے کورٹ میں ڈال دی ہے، جہاں اقتصادی پابندیوں کی منسوخی اور افزودگی کے حق کو مذاکرات کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں جوہری پروگرام پر لچک دکھانے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں اور پرامن جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کا نصف بیرون ملک بھیجنے، باقی کو کم درجے پر لانے اور علاقائی افزودگی کے مشترکہ نظام میں شامل ہونے پر غور کر سکتا ہے۔ اس کے بدلے ایران چاہتا ہے کہ اس کے خلاف عائد سخت پابندیاں ختم کی جائیں اور اقتصادی تعاون کے دروازے کھولے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا اور ایران کے درمیان جمعرات کو مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا : عمان کی تصدیق
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خواہاں نہیں اور بین الاقوامی نگرانی کے لیے بھی آمادہ ہیں۔ تاہم میزائل پروگرام اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت جیسے معاملات پر تہران نے بات چیت سے انکار کیا ہے۔
رائٹرز نے ماہرین سے بھی اس خبر پر تبصرہ لیا، جن کا کہنا تھا کہ یہ پیشکش دراصل کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امریکی حملے کو روکنے کی کوشش ہو سکتی ہے، لیکن دونوں جانب بداعتمادی اب بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












