اسرائیلی وزیر کا حماس کیخلاف امریکی ناکامی کی صورت میں غزہ پر قبضے کا اعلان

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضے اور وہاں فلسطینیوں کی جگہ یہودی بستیاں بسانے کی اپنی دھمکیاں ایک بار پھر دہرائی ہیں۔
دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند وزیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت بہت جلد حماس کو ایک آخری نوٹس یا الٹی میٹم دینے والی ہے، جس کے تحت تنظیم کے قائدین کو غزہ کی پٹی چھوڑنے اور اپنا تمام اسلحہ، ہیڈ کوارٹرز اور سرنگیں اسرائیلی فوج کے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حماس نے اس الٹی میٹم پر عمل درآمد نہ کیا تو اسرائیل کو غزہ میں خود براہِ راست کارروائی کرنے کا بھرپور قانونی اور اخلاقی جواز مل جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کی ناجائز حمایت پر اسلامی دنیا برہم، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب
سموٹرچ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ اگر امریکی صدر اپنے طریقے سے حماس کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوئے، تو اسرائیلی فوج کو بین الاقوامی سطح پر ایسا کرنے کا جواز اور امریکی حمایت حاصل ہو جائے گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل حماس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے بنیادی ہدف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا، بلکہ اس نے صرف ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک موقع دیا ہے کہ وہ اپنے انداز میں اس مسئلے کا حل نکالیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیرِ خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ فوج پہلے ہی غزہ پر مکمل قبضے اور وہاں نئی یہودی بستیاں قائم کرنے کے لیے ضروری جنگی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، اور اسرائیل ہی اس علاقے کا انتظام سنبھالے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












