ایرانی جوہری پروگرام مکمل طور پر منجمد ہے، ماہرین نے امریکی دعوے مسترد کر دیئے

ماہرین اور سفارت کاروں نے واضح کیا ہے کہ گزشتہ برس امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایرانی جوہری پروگرام میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی اور سرگرمیاں عملاً منجمد ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق متعدد ماہرین اور سفارتی ذرائع نے امریکا کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بارہ روزہ حملوں کے بعد تہران کا جوہری پروگرام نمایاں طور پر آگے نہیں بڑھا اور اس کی سرگرمیاں مؤثر طور پر منجمد ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر اور بین الاقوامی نگرانی کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار ڈیوڈ البرائٹ نے کہا کہ سیٹلائٹ شواہد اور نگرانی کے نظام یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پروگرام عملاً رکا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے جوہری پروگرام میں لچک دکھانے کی پیشکش
اسی طرح امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار رابرٹ آئن ہارن، جو جوہری عدم پھیلاؤ کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، نے کہا کہ افزودگی مؤثر طور پر معطل ہے اور ایران میں اس وقت کوئی فعال افزودگی جاری نہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے گزشتہ اکتوبر میں کہا تھا کہ جون کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے تصدیق کی کہ گروسی کا یہ مؤقف اب بھی برقرار ہے اور جوہری ماہرین کی بڑی تعداد اسے تسلیم کرتی ہے۔ بعد ازاں گروسی نے کہا تھا کہ ادارے کو پختہ تاثر ہے کہ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ان مقامات پر ہی مدفون ہیں جنہیں گزشتہ سال نشانہ بنایا گیا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












