امریکی عدالت نے ٹرمپ کی متنازع امیگریشن پالیسی غیر قانونی قرار دے دی

امریکی وفاقی عدالت نے تارکینِ وطن کو ان کے آبائی ملک کے بجائے کسی تیسرے ملک منتقل کرنے اور قانونی چارہ جوئی سے محروم رکھنے کی صدارتی پالیسی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
امریکی ضلعی جج برائن مرفی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے تارکین وطن کو تیزی سے تیسرے ممالک بھیجنے کی پالیسی قانون اور آئین دونوں کے منافی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ کسی بھی شخص کو ایسے نامعلوم اور ممکنہ طور پر خطرناک ملک نہیں بھیجا جا سکتا، جہاں اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ منصفانہ قانونی کارروائی کا حق امریکی آئین کا بنیادی جزو ہے اور کسی شخص کو زندگی، آزادی یا جائیداد سے محروم کرنے سے پہلے قانونی تقاضے پورے کرنا لازم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ کے ٹیرف پلان پر یورپی یونین کا سخت احتجاج، معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ
جج برائن مرفی نے کہا کہ تیزی سے بے دخلی کے باعث ہر کیس کی تفصیل عدالتوں کے سامنے نہیں آ پاتی اور انتظامیہ متعلقہ ملک کی معلومات تک فراہم نہیں کرتی۔
انہوں نے اس دلیل کو بھی مسترد کیا کہ اگر محکمہ داخلی سلامتی کو یہ علم نہ ہو کہ کسی کی آمد پر اسے قتل کیا جائے گا تو تیسرے ملک بھیجا جا سکتا ہے۔
جج نے کہا کہ یہ نہ درست ہے اور نہ قانونی۔ انہوں نے فیصلے کے نفاذ کو پندرہ روز کے لیے مؤخر کیا تاکہ انتظامیہ اپیل کا حق استعمال کر سکے۔
یہ مقدمہ اجتماعی درخواست کے ذریعے دائر کیا گیا تھا۔ مدعیان کی وکیل ٹرینا ریلموٹو نے فیصلے کو آئینی اصولوں کی مضبوط توثیق قرار دیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












