مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کا سفاکانہ ‘غزہ ماڈل’ نافذ کر رکھا ہے : الجریزہ

الجزیرہ نے چشم کشا رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نریندر مودی مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو دبانے کے لیے من وعن وہی سفاکانہ ماڈل اپنا رہی ہے جو اسرائیل نے غزہ اور فلسطین میں نافذ کر رکھا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ ایک مشترکہ نظریاتی وژن پر مبنی ہیں جہاں دونوں ممالک مسلمانوں کو اپنے لیے ایک سیکیورٹی اور جغرافیائی خطرہ تصور کرتے ہیں۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت صیہونی طرز حکومت اور ان کے سخت گیر ڈھانچے سے شدید متاثر ہے اور اسی بنیاد پر دونوں حکومتیں خود کو نسلی طور پر برتر سمجھتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق پامال کر رہی ہیں۔
مودی حکومت نے نہ صرف غزہ میں جاری حالیہ نسل کشی کے دوران اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کی بلکہ اسرائیلی نگرانی اور جدید جاسوسی کے آلات کو اپنے ملک کے سیکیورٹی ڈھانچے میں بھی شامل کر لیا ہے تاکہ اختلافی آوازوں کو دبایا جا سکے۔
رپورٹ کا ایک اہم حصہ نومبر 2019 میں امریکہ میں تعینات بھارتی قونصل جنرل کے اس بیان پر روشنی ڈالتا ہے، جس میں انہوں نے علی الاعلان کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں وہی ماڈل اپنایا جائے گا، جو اسرائیل نے فلسطین میں اختیار کر رکھا ہے۔
اس اعلان کے بعد سے مقبوضہ کشمیر مسلسل فوجی محاصرے کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے وہاں شہریوں کی آزادیاں سلب ہو چکی ہیں اور معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 43 فوجی چوکیاں قائم کردیں
مودی حکومت نے کشمیر کی انتظامی پالیسیوں میں اسرائیلی سیکیورٹی ماڈل کو مکمل طور پر ضم کر دیا ہے، جس کے تحت وہاں مستقل ہنگامی حالت، جابجا چیک پوسٹیں، گھروں پر چھاپے اور انٹرنیٹ و مواصلات کی بندش جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
الجزیرہ نے ‘بلڈوزر جسٹس’ نامی پالیسی پر بھی کڑی تنقید کی ہے، جو مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مختلف حصوں میں اقلیتوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
بلکل اسی طرح جیسے غزہ میں فلسطینیوں کے گھر مسمار کیے جاتے ہیں، بھارت میں بھی سینکڑوں مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور یہاں تک کہ عبادت گاہوں کو بغیر کسی قانونی نوٹس کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
ناقدین اور انسانی حقوق کے ماہرین اس عمل کو ماورائے عدالت سزا قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو معاشی اور سماجی طور پر مفلوج کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اظہار رائے اور پرائیویسی کے حقوق کو بری طرح کچلا گیا ہے۔ کشمیریوں کی روزمرہ زندگی اب غزہ کے مظلوموں کی طرح ہو چکی ہے، جہاں جدید جاسوسی آلات کے ذریعے ہر فرد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ہندوتوا کا نظریہ دانستہ طور پر اقلیتوں کو ایک بڑے سیکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ معاشرے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کیا جا سکے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی ان سنگین اور ظالمانہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اب عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے صیہونی و ہندوتوا گٹھ جوڑ کا نوٹس لے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












