ورلڈ بینک کا افریقہ میں معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف

ورلڈ بینک نے نصف صدی کے بعد بالآخر اعتراف کر لیا ہے کہ افریقہ میں اس کی جانب سے نافذ کی گئی معاشی پالیسیاں اور نیو لبرل نسخے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
ورلڈ بینک نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ پچاس سالوں کے دوران افریقہ میں اس کی جانب سے فروغ دی گئی معاشی پالیسیاں سراسر غلط تھیں اور ان کے نتیجے میں افریقی ممالک ایک ترقیاتی جال میں پھنس کر رہ گئے۔
عالمی بینک اور آئی ایم ایف نے دہائیوں تک افریقی حکومتوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ مارکیٹ کو آزاد کریں، سرکاری اخراجات میں کٹوتی کریں اور نجکاری کو فروغ دیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان ممالک کی صنعتی بنیادیں کمزور ہو گئیں اور وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی
ان پالیسیوں نے مقامی حکومتوں کی صلاحیت کو کمزور کیا اور غیر ملکی کمپنیوں کو افریقی وسائل پر قبضے کا موقع فراہم کیا۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس کے برعکس چین اور سنگاپور جیسے مشرقی ایشیائی ممالک نے عالمی بینک کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے مضبوط ریاستی کنٹرول، اسٹریٹیجک صنعتوں کی حفاظت اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے تیز رفتار ترقی حاصل کی۔
ان ممالک نے اپنی مارکیٹیں مکمل طور پر کھولنے سے پہلے اپنی مقامی صنعت کو مضبوط بنایا۔ ورلڈ بینک اب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی بات تو کر رہا ہے، لیکن افریقی ممالک کے سامنے اب یہ بڑا سوال ہے کہ کیا وہ دوبارہ انہی اداروں کے نئے نسخوں پر عمل کریں گے یا اپنی مقامی ضروریات کے مطابق اپنی معاشی سمت کا خود تعین کریں گے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











