اوپیک سے امارات کی علیحدگی، پیٹرو ڈالر کے زوال کا آغاز؟

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ سے نکلنے کا فیصلہ عالمی معیشت اور پیٹرو ڈالر کی بالادستی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جس سے ‘پیٹرو یوآن’ کے نئے دور کا آغاز ہونے کا امکان ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان محض ایک ملکی پالیسی میں تبدیلی نہیں ہے بلکہ یہ عالمی توانائی کی سیاست میں ایک بڑے زلزلے کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ اور عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے دوران امارات کا یہ قدم پیٹرو ڈالر کی دہائیوں پرانی بالادستی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن کر ابھرا ہے۔
امارات کا اصل ہدف کوئی کرنسی انقلاب لانا نہیں بلکہ اوپیک کے مقررہ کوٹے سے آزادی حاصل کرنا ہے تاکہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکے اور اپنی قومی تیل کمپنی کے ذریعے کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری کا بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی توانائی کا اصل بحران، خام تیل نہیں بلکہ تیل کی ریفائننگ میں کمی ہے
1974 سے تیل کی تجارت میں ڈالر کے استعمال نے امریکہ کو جو ساختی فائدہ پہنچایا تھا، امارات کے جانے سے وہ کمزور پڑ جائے گا۔
اب امارات یکطرفہ طور پر دنیا کے کسی بھی ملک سے اپنی شرائط پر معاہدے کرنے میں آزاد ہوگا، جس سے عالمی مالیاتی نظام پر مغرب کی گرفت ڈھیلی پڑے گی۔
ایشیا، جو اس وقت دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، طویل عرصے سے توانائی کی تجارت میں ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امارات کا یہ فیصلہ اس رجحان کو مزید تیز کر دے گا۔ چین پہلے ہی یوآن پر مبنی تیل کی تجارت کا طریقہ کار تیار کر چکا ہے۔
اب امارات اپنی برآمدات کو ایشیا کے ابھرتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتا ہے، جو خطے میں ایک نئے معاشی آرڈر کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے ثابت کر دیا ہے کہ تیل کا مرکزی نظام اب کمزور ہو چکا ہے اور دنیا اب منتشر لیکن خود مختار توانائی کے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












