ایران پر حملوں کیلئے عراقی سرزمین کا استعمال، صحرا میں اسرائیلی خفیہ فوجی اڈے کا انکشاف

امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت میں معاونت کے لیے عراق کے مغربی صحرا میں ایک غیر قانونی اور خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا۔
امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق کے مغربی صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی چوکی قائم کر رکھی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس خفیہ اڈے کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں اسرائیلی فضائیہ کو بھرپور مدد فراہم کرنا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تنصیب کو جنگ شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل ہی فعال کر دیا گیا تھا تاکہ اسے اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک رسد کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکے، جہاں اسرائیلی خصوصی دستوں کے یونٹ بھی تعینات کیے گئے تھے تاکہ کارروائیوں کے دوران بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اس خفیہ اڈے کے قیام اور وہاں جاری سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر تھا۔ اس مرکز کا ایک اہم ترین آپریشنل کردار یہ تھا کہ ایران پر حملوں کے دوران اگر کوئی اسرائیلی پائلٹ مار گرایا جائے تو وہاں موجود تلاش اور امداد کی ٹیمیں فوری طور پر اسے نکالنے کے لیے حرکت میں آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کی جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری، فضائی حملوں میں مزید 31 افراد شہید
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس خفیہ اڈے کی حفاظت کے لیے عراقی حدود کے اندر فضائی حملے بھی کئے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو دور رکھا جا سکے۔ اس اڈے کی موجودگی سے اسرائیل کو ایرانی اہداف تک رسائی میں آسانی ہوئی اور طویل فاصلے تک فضائی آپریشنز کا انعقاد ممکن ہو سکا۔
رواں سال مارچ کے اوائل میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی، جب ایک مقامی چرواہے نے عراقی حکام کو صحرائی علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی غیر معمولی نقل و حرکت اور مشکوک فوجی موجودگی کی اطلاع دی۔
عراقی فورسز جب اس علاقے کی تفتیش کے لیے پہنچیں تو ان پر اچانک حملہ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک عراقی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نائب کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قیس المحمداوی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک لاپرواہ کارروائی قرار دیا، جو بغیر کسی پیشگی اجازت یا ہم آہنگی کے کی گئی۔
عراقی حکام نے اس معاملے پر اقوام متحدہ میں باضابطہ شکایت بھی درج کرائی ہے، جس میں اس حملے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی گئی ہے، تاہم امریکی حکام نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق کا مغربی صحرا اپنی جغرافیائی اہمیت اور کم آبادی کی وجہ سے ہمیشہ سے خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، اور حالیہ انکشافات اس خطے میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی مداخلت کی تصدیق کرتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










