اتوار، 1-مارچ،2026
اتوار 1447/09/12هـ (01-03-2026م)

ایران میں مستقل رہبر کے تعین تک عبوری کونسل فعال، آیت اللہ علی رضا اعرافی رکن منتخب

01 مارچ, 2026 16:16

ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا کے مطابق ایران میں پیدا ہونے والے حالیہ قیادت کے بحران کے حل کے لیے آئینی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

مجمع تشخیصِ مصلحتِ نظام کے ترجمان محسن دہنوی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 111 کی روشنی میں نئے مستقل رہبر کے باقاعدہ تعین تک ایک عبوری مجلسِ قیادت تشکیل دے دی گئی ہے۔

اس اہم ترین مجلس میں عام طور پر صدرِ جمہوریہ، عدلیہ کے سربراہ اور شورائے نگہبان کے فقہا میں سے ایک رکن شامل ہوتا ہے۔

ترجمان کے مطابق مجمع نے متفقہ طور پر آیت اللہ علی رضا اعرافی کو کونسل کے رکن کے طور پر منتخب کیا ہے تاکہ ملک کے نظامِ قیادت میں کسی قسم کا کوئی خلا پیدا نہ ہو اور مجلسِ خبرگانِ رہبری جلد از جلد نئے مستقل رہبر کا انتخاب مکمل کر سکے۔

کونسل آف گارڈین کے سینئر فقیہ آیت اللہ اعرافی کون ہیں؟

آیت اللہ علی رضا اعرافی ایران کے ایک انتہائی سینئر شیعہ عالمِ دین اور ملک کے مذہبی و سیاسی نظام کی ایک نہایت بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

وہ 1969 میں صوبہ یزد کے شہر میبد کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور 1970 میں اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے ایران کے مقدس شہر قم منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں اسلامی علوم سیکھنے میں صرف کیں۔

انتھک محنت کے بعد انہوں نے درجۂ اجتہاد حاصل کیا اور اسلامی فقہ میں ایک خود مختار اور مستقل مجتہد کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی۔ وہ نہ صرف علم و دانش کے پیکر ہیں بلکہ انتظامی امور میں بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

موجودہ وقت میں آیت اللہ علی رضا اعرافی ایران کے تمام شیعہ مدارس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ شورائے نگہبان کے ساتھ ساتھ مجلسِ خبرگانِ رہبری کے بھی اہم رکن ہیں۔

ان کے پاس ماضی میں جامعہ المصطفیٰ العالمیہ جیسی بڑی عالمی درسگاہ کی سربراہی کا تجربہ بھی موجود ہے، جہاں دنیا بھر سے آنے والے غیر ملکی طلبہ کو دینی تربیت دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ وہ قم کے امامِ جمعہ کے منصب پر بھی فائز ہیں اور انہیں شہید رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے متعدد اہم اور حساس عہدوں پر مقرر کیا گیا تھا۔

ان کی شخصیت کو ایران کے پورے مذہبی اور سیاسی ڈھانچے میں ایک انتہائی بااعتماد ستون تصور کیا جاتا ہے جو ملک کے تمام بڑے مذہبی اداروں کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

ایران کا آئین اور رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا طریقہ کار

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی دفعہ 111 کی رو سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر رہبرِ اعلیٰ وفات پا جائیں، مستعفی ہو جائیں یا انہیں عہدے سے معزول کر دیا جائے، تو ایسی صورت میں ماہرین کی مجلس یعنی مجلسِ خبرگان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد نئے رہبرِ اعلیٰ کا تعین کرے اور ان کے نام کا اعلان کرے۔

نئے رہبرِ اعلیٰ کے باقاعدہ انتخاب اور تعارف تک کے درمیانی عرصے میں رہبری کی تمام تر ذمہ داریاں عارضی طور پر ایک کونسل کے سپرد کر دی جائیں گی۔

اس عبوری کونسل میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے فقہا میں سے ایک رکن شامل ہوں گے، جن کا انتخاب مصلحت نظام کونسل کرے گی۔

یہ کونسل عارضی طور پر رہبری کے تمام فرائض انجام دینے کی مجاز ہوگی۔ اگر اس عبوری مدت کے دوران کونسل کا کوئی بھی رکن کسی بھی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل نہ رہے، تو مصلحت نظام کونسل اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کا انتخاب کرے گی، تاہم اس عمل میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ کونسل میں فقہا کی اکثریت برقرار رہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔