انتہاپسند مودی کو مسلم نسل کشی اور اسرائیل نواز پالیسی پر کڑی تنقید کا سامنا

بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ گٹھ جوڑ اور دہشت گردانہ کردار نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کی غیر مشروط تائید نے بھارت کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے، جن میں وہ خود کو ایک غیر جانبدار ملک قرار دیتا تھا۔
بھارت کے اندر بھی مودی کی ان پالیسیوں کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے نے یہ تاثر دیا ہے کہ بھارت ایران پر فضائی حملوں کی تائید کر رہا ہے، جس سے پورے خطے میں ایک نیا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا حقیقی دوست نہیں ہو سکتا : حافظ نعیم
کانگریس کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران پر حملوں کے حوالے سے مودی کا رویہ بھارت کی تاریخی اقدار اور قومی مفادات سے غداری کے مترادف ہے۔
عالمی اقتصادی جریدے بلومبرگ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران میں بڑھتا ہوا بحران بھارتی معیشت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے، جس سے ملک کو تیل کی قیمتوں میں اضافے اور تجارتی خسارے کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی بھی تصدیق کی ہے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ دوغلا رویہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور ان کی یہ پالیسیاں خود اسرائیل کے لیے بھی جلد ہی ایک بھیانک حقیقت بن کر سامنے آئیں گی۔
طاقت کے اس بے دریغ استعمال اور یہود و ہنود کے گٹھ جوڑ نے انسانیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










