جمعہ، 17-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/29هـ (17-04-2026م)

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز

17 اپریل, 2026 08:30

بیروت اور مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں میں ہفتوں سے جاری شدید بمباری اور زمینی جھڑپوں کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان دس روزہ عارضی جنگ بندی کا باضابطہ معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا اطلاق جمعہ کی شب سے ہو چکا ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری خونی تنازع میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا، جب بیروت کے وقت کے مطابق جمعہ کی رات ٹھیک بارہ بجے دس روزہ جنگ بندی کا باضابطہ آغاز ہوا۔

جنگ بندی کے ابتدائی لمحات میں ہی جنوبی لبنان کی شاہراہوں پر گاڑیوں کا ایک بڑا ہجوم دیکھا گیا، جو کئی ہفتوں کی بمباری کے بعد اپنے آبائی علاقوں کی جانب روانہ ہوا۔

دارالحکومت بیروت کی سڑکوں پر بھی جشن کا سماں رہا اور لوگ بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے۔ جنوبی مضافاتی علاقوں کے باسیوں نے بھی اپنے تباہ شدہ مکانات کی صورتحال دیکھنے کے لیے واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔

جنگ بندی کے نفاذ سے محض چند منٹ قبل بھی فریقین کے درمیان شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق حزب اللہ نے مقبوضہ شمالی علاقوں میں کریات شمونہ سمیت متعدد بستیوں کو راکٹوں کا نشانہ بنایا۔

حزب اللہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شب گیارہ بج کر پچاس منٹ پر کفر گیلادی، تل حئی، کریات شمونہ، متولہ اور مسکاف عام کی بستیوں پر بیک وقت راکٹوں کی بارش کی گئی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اعلان کیا کہ لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ساتھ ان کی بات چیت انتہائی کامیاب رہی جس کے نتیجے میں دس روزہ امن کا معاہدہ ممکن ہو سکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت 10 ممالک کا لبنان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

معاہدے کی تفصیلات کے مطابق لبنان اپنی سرزمین سے اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کے حملے روکنے کا پابند ہوگا اور ملک میں تمام دفاعی اختیارات صرف سرکاری اداروں کے پاس ہوں گے۔ اس کے بدلے میں اسرائیل بھی جنگ بندی کے دوران کسی بھی قسم کی جارحیت سے باز رہے گا۔

تاہم تہران کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ صرف امریکی ثالثی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایران کی اس وارننگ کا اثر ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر لبنان پر حملے نہ رکے تو وہ واشنگٹن کے ساتھ تمام دیگر مذاکرات سے دستبردار ہو جائے گا۔

ایرانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے میزائل حملے کے لیے تیار تھے اور اسی سنگین خطرے کو محسوس کرتے ہوئے دشمن جنگ بندی پر مجبور ہوا۔

لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے شہریوں کو محتاط رہنے کی تاکید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ فوری طور پر سرحدی دیہاتوں کا رخ نہ کریں کیونکہ اسرائیل کی جانب سے ماضی میں بھی وعدہ خلافیوں کی تاریخ موجود ہے۔

حزب اللہ نے بھی اپنے حامیوں کو خبردار کیا ہے کہ جب تک صورتحال مکمل طور پر واضح نہ ہو جائے، وہ نشانہ بنے ہوئے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔

عالمی سطح پر یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین اور اقوام متحدہ کی خصوصی کوآرڈینیٹر جینین ہینس نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے مستقل امن کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔