ایران سے جنگ پر امریکہ اور جرمنی کا سفارتی ڈرامہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا حالیہ اعلان بظاہر ایک بڑا فیصلہ نظر آتا ہے، مگر گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک سیاسی کھیل ہے جہاں تزویراتی مفادات اب بھی باہمی اختلافات پر حاوی ہیں۔
واشنگٹن اور برلن کے درمیان ایران کی جنگ کے حوالے سے پیدا ہونے والی تلخی اب باقاعدہ عسکری فیصلوں کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کو نکالنے کی دھمکی اس وقت دی، جب جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے امریکی جنگی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے امریکہ کے لیے ذلت آمیز قرار دیا تھا۔
جرمن چانسلر نے واشنگٹن کے پاس اس جنگ سے نکلنے کے لیے کسی واضح منصوبے کی عدم موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔ تاہم، اس تمام تر لفظی گولہ باری اور عوامی سطح پر تنقید کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کا ڈھانچہ اب بھی برقرار ہے۔
جرمنی نے اسپین، فرانس اور اٹلی کے برعکس، جنھوں نے امریکی فوج کو اپنے اڈوں کے استعمال سے روک دیا ہے، تاحال رامسٹائن ایئر بیس سمیت تمام اہم تنصیبات تک امریکی رسائی پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔
یہ بھی پڑھیں : جرمنی کا امریکہ کے ٹوما ہاک میزائلوں کی تنصیب سے انکار
جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس امریکی فوجی آپریشنز پر سوال اٹھانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برلن اب بھی دو طرفہ معاہدوں کی پاسداری کر رہا ہے۔
اس وقت جرمنی میں 35 ہزار سے 39 ہزار کے قریب فعال امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں، جن میں سے 5 ہزار کا انخلا اگلے چھ سے بارہ ماہ میں مکمل ہوگا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ایک بریگیڈ کامبیٹ ٹیم اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل دستے کی تعیناتی روک دی گئی ہے۔
دوسری جانب، جنگ کے انسانی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ بیرون ملک سب سے بڑے امریکی فوجی اسپتال، لینڈ اسٹول ریجنل میڈیکل سینٹر نے زچگی کی خدمات روک کر اپنی تمام تر توجہ ایران جنگ کے زخمیوں پر مرکوز کر دی ہے۔ اب تک اس جنگ میں چھ امریکی فوجی ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔
جرمن پارلیمنٹ کی ایک حالیہ تشخیص میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا تو جرمنی کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی اس کشیدگی نے یورپی رہنماؤں کو ایک بار پھر اپنی آزاد دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
یورپی دفاعی فنڈ میں سرمایہ کاری اور مشترکہ فوجی منصوبوں پر بات چیت میں تیزی آئی ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی ممالک کو امریکی عسکری طاقت اور رسائی کا مقابلہ کرنے میں ابھی برسوں لگ سکتے ہیں۔
یہ پوری صورتحال ایک ایسے تھیٹر کی مانند ہے، جہاں پردے کے سامنے اختلافات کا شور ہے، لیکن پردے کے پیچھے عسکری ضرورتیں اب بھی دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












