بدھ، 6-مئی،2026
بدھ 1447/11/19هـ (06-05-2026م)

ایران تنازعہ اور ایندھن کی قیمتیں، مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چین کا پلہ بھاری ہو گیا

05 مئی, 2026 10:25

ایران کے تنازعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران نے جہاں دنیا کو اندھیروں کی طرف دھکیلا ہے، وہیں چین کی سستی بجلی اسے مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں سب سے آگے لے گئی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو اگر ایک عمارت تصور کیا جائے تو اس کی بنیاد توانائی پر کھڑی ہے۔ دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کے مطابق توانائی ہی مصنوعی ذہانت کے ڈھانچے کا پہلا اصول ہے۔

اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان اس ٹیکنالوجی کی قیادت حاصل کرنے کے لیے ایک مہنگی جنگ جاری ہے، جس میں اگلے پانچ سالوں کے دوران بارہ سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

تاہم، ایران کے تنازعے نے اس دوڑ کے رخ کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں مغربی ممالک توانائی کی قلت اور تیل و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نبرد آزما ہیں، وہیں چین اپنی سستی اور وافر بجلی کی بدولت ایک بڑی برتری حاصل کر چکا ہے۔

چین کا بجلی کا نظام تقریباً خود کفیل ہے، جو درآمدی تیل یا گیس کے بجائے مقامی کوئلے اور تیزی سے پھیلتے ہوئے ہوا اور سورج سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں پر منحصر ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ اور خشک سالی، امریکہ میں غذائی بحران کا خطرہ، گندم کی پیداوار میں تاریخی کمی

چین میں بجلی کی قیمت امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں تیس سے ساٹھ فیصد تک کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر کوئی پابندی نہیں ہے، جبکہ امریکہ کو سن دو ہزار اٹھائیس تک پینتالیس گیگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اوپن اے آئی جیسی بڑی کمپنیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ بجلی کا یہ فرق امریکہ کو اس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتا ہے۔

بیجنگ اس وقت ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت میں دنیا کا دوسرا بڑا مرکز بن چکا ہے اور امید ہے کہ 2030 تک اس کی گنجائش ساٹھ گیگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔

چینی حکومت نے 2022 میں ایک منصوبہ شروع کیا تھا، جس کے تحت کمپیوٹنگ کے کام کو ان علاقوں میں منتقل کیا گیا، جہاں توانائی وافر مقدار میں موجود ہے۔

وہاں منظوری کے عمل میں کوئی عوامی مزاحمت یا بیوروکریسی کی رکاوٹ نہیں ہے، جو کہ امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی اس شعبے میں بڑھ رہا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی مانگ نے ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت کو کمرشل جائیدادوں سے بھی اوپر کر دیا ہے۔

اگرچہ ضرورت سے زیادہ تعمیرات اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اخراج جیسے خطرات موجود ہیں، لیکن موجودہ توانائی کی سلامتی کے تناظر میں چین کی سستی بجلی اسے اس صدی کی سب سے بڑی تکنیکی جنگ میں فاتح بنا سکتی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔